نئی دہلی 14/ستمبر(ایس او نیوز) مرکزی حکومت نے 18 سے 22 ستمبر تک چلنے والے پارلیمنٹ کے خصوص اجلاس کے لیے مجوزہ ایجنڈا جاری کر دیا ہے جس میں چار بلوں کو پیش کرنے کا تذکرہ ہے۔ ایجنڈہ کے تعلق سے جانکاری شیئر کرتے ہوئے، حکومت نے کہا ہے کہ اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ کے 75 سال کے سفر پر بحث کی جائے گی۔ اس دوران آئین ساز اسمبلی سے آج تک کا پارلیمانی سفر پربحث ہوگی۔ اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں میں چار بل پیش کیے جائیں گے۔
میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق 3 اگست کو راجیہ سبھا میں ایڈوکیٹس (ترمیمی) بل 2023 اور پریس اینڈ پیریڈیکل رجسٹریشن بل 2023 منظور کیا گیا تھا۔ یہ بل اب لوک سبھا میں پیش کیے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ 10 اگست کو پوسٹ آفس بل ، 2023 اور چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری ، سروس کی شرائط اور عہدے کی مدت) بل 2023 راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا، اس پر اب خصوصی اجلاس کے دوران بحث کی جائے گی۔
یاد رہے کہ مودی حکومت کی طرف سے بلائے گئے اس پانچ روزہ خصوصی اجلاس کے ایجنڈے پر اپوزیشن مسلسل سوال اٹھا رہی تھی اور ایجنڈہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ اب مودی حکومت نے اس حوالے سے ایک مجوزہ ایجنڈا جاری کیا ہے۔ کیونکہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ خصوصی اجلاس کے دوران حکومت’ ایک ملک ، ایک الیکشن‘ اور ملک کا نام بدل کر انڈیا سے بھارت کرنے کافیصلہ کرسکتی ہے۔ تاہم حکومت کے جاری کردہ ایجنڈے میں ایسی کسی بھی باتوں کا ذکر نہیں ہے۔
اپوزیشن نے بنایا نشانہ: کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے حکومت کے خصوصی اجلاس کے ایجنڈے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2021 میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کی 75 ویں سالگرہ منانے کے لیے کئی پروگراموں کا اہتمام کیاتھا۔ آج کا اعلان ہمیں بتاتا ہے کہ اسی وجہ پر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں بحث کی جائے گی۔ کیا حکومت دماغ سے اتنی عاری ہے کہ تین سال میں ایک ہی موقع پر دو مرتبہ جشن منارہی ہے؟ یا یہ عوام کی توجہ بھٹکانے کی پالیسی ہے؟
بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز سے ایک دن پہلے 17 ستمبر کو آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو ای میل کے ذریعے دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ 18 سے 22 ستمبر تک پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا اعلان پرہلاد جوشی نے 31 اگست کو کیا تھا۔ اس وقت ، اس کا ایجنڈا خفیہ تھا ، جس کی وجہ سے اپوزیشن کی طرف سے قیاس آرائیاں اور تنقیدیں کی جارہی تھیں۔
چند روز قبل اپوزیشن نے بھی خصوصی اجلاس کے لیے اپنے ایجنڈے کا اعلان کیا ہے۔ سونیا گاندھی کے جاری کردہ خط میں 9 نکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں اڈانی کیس میں جے پی سی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کئی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم بی جے پی نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسائل پر پہلے ہی بات ہو چکی ہے۔ اس لیے خصوصی اجلاس میں بھی ہنگامہ آرائی کے امکانات ہیں۔